آنکھ میں جب مری وہ گنبدِ اخضر چمکا

آنکھ میں جب مری وہ گنبدِ اخضر چمکا

ایک خورشید مری روح کے اندر چمکا

 

بزمِ ہستی تھی اندھیروں کے طلسمات میں گم

آپ آئے تو اندھیروں کا مقدر چمکا

 

شعلہِ عشقِ محمدؐ سے فروزاں ہے بلالؓ

حسنِ نسبت کے شرف سے ہی ابوذرؓ چمکا

 

مجھ پہ وہ ابرِ گہر بار مسلسل برسا

مجھ پہ وہ مہرِ ضیا پاش برابر چمکا

 

جس کے ہونٹوں پہ ترے نام کی کلیاں چٹکیں

اُس کی پلکوں پہ تری یاد کا اختر چمکا

 

دیکھ کر مسجد و محراب و ریاض الجنۃ

چشمِ حیرت میں ترے عہد کا منظر چمکا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ
بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے
اشرف الانبیاء ہے ہمارا نبیﷺ
ہے عرش پہ قوسین کی جا ، جائے محمد
جھانکوں جو دل میں اپنے، مدینہ دکھائی دے