اردوئے معلیٰ

Search

 

آنگن آنگن شمعِ خیالِ یار جلے

رات آئی اور لوگ ستارہ وار جلے

 

اس بستی کی رات بھی کتنی روشن ہے

بجھ جائیں گر دیپ تو پہرے دار جلے

 

دن بھر گہرا سناٹا رہتا ہے مگر

شب بھر ایک چراغ پسِ دیوار جلے

 

کشتی سے یہ کس کا عکس اتر آیا

ماہی گیر کے ہاتھوں میں پتوار جلے

 

میں تنہا ہر پیڑ سے مل کر روؤں جمال

چاند اکیلا دریا کے اُس پار جلے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ