اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

آنگن آنگن شمعِ خیالِ یار جلے

 

آنگن آنگن شمعِ خیالِ یار جلے

رات آئی اور لوگ ستارہ وار جلے

 

اس بستی کی رات بھی کتنی روشن ہے

بجھ جائیں گر دیپ تو پہرے دار جلے

 

دن بھر گہرا سناٹا رہتا ہے مگر

شب بھر ایک چراغ پسِ دیوار جلے

 

کشتی سے یہ کس کا عکس اتر آیا

ماہی گیر کے ہاتھوں میں پتوار جلے

 

میں تنہا ہر پیڑ سے مل کر روؤں جمال

چاند اکیلا دریا کے اُس پار جلے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو
شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے
مآلِ سوزِ عشقِ نہاں صرف راکھ ہے