اردوئے معلیٰ

آپ کی یاد دِل میں بستی ہے

دِل مدینہ کی گویا بستی ہے

 

ہے جو رحمت کُل عالمیں کے لیے

آپ کی وہ عظیم ہستی ہے

 

آستانِ نبی پہ ہر لمحہ

رحمتوں کی گھٹا برستی ہے

 

خود بچاتے ہیں آپ، اُمت کی

جب بھی ناؤ بھنور میں پھنستی ہے

 

منتظر میری چشمِ تر، آقا

آپ کی دید کو ترستی ہے

 

راہِ طیبہ میں یا نبی حائل

مفلسی، میری تنگ دستی ہے

 

یا نبی! اب طلوعِ صبح، ظفرؔ

شب گزیدہ کو رات ڈستی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات