آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں

آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں

اپنے من کی مراد پاتا ہوں

 

آپؐ فیض و عطا کا مرکز ہیں

آپؐ کے در پہ سر جھُکاتا ہوں

 

آپؐ کا سایا میرے سر پہ رہے

اس دُعا کو میں ہاتھ اُٹھاتا ہوں

 

دِل میں پڑھتا ہوں میں درُود و سلام

یوں میں سنسان گھر بساتا ہوں

 

میں پہنتا ہوں آپؐ کا اُترن

میں دیا آپؐ ہی کا کھاتا ہوں

 

ڈال کر سر میں پاؤں کا دھوون

نِت نئے بال و پر اُگاتا ہوں

 

آس لے کر ظفرؔ! حضوری کی

سوئے کوئے حبیبؐ جاتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات