آپ کے پیار کے سہارے چلوں

آپ کے پیار کے سہارے چلوں

آپ کا نام ہی پکارے چلوں

 

مُجھ کو سرکار نے بلایا ہے

چھوڑ کر کام کاج سارے چلوں

 

اپنی پلکوں سے نقشِ پا چوموں

آپ کی را ہوں کے کنارے چلوں

 

آپ کا نور رہنما ہے مرا

دیکھ کر کیوں میں چاند تارے چلوں

 

شبِ معراج رونما جو ہوئے

خواب میں دیکھتا نظارے چلوں

 

دستِ قدرت جو تھامے ہاتھ مرا

نعت کے زاویے اُبھارے چلوں

 

آنسوؤں کے سوا ظفرؔ! میرے

پاس کچھ بھی نہیں جو وارے چلوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ