اردوئے معلیٰ

Search

 

آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​

کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​

 

آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​

کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​

 

آپکو راضی نہ کر پایا تو مرجاؤنگا میں​

چھوٹی چھوٹی کرچیاں بن کر بکھر جاؤنگا میں​

 

زندگی کا اس طرح مجھ کو مزہ کیا آئے گا​

دل سیاہی کے بھنور میں ڈوبتا رہ جائے گا​

 

واسطہ دوں آپ کو میں آپ کے حسنین کا​

یار غار صور کا صدیق کا اے کونین کا​

 

آپ تو دشمن کے حق میں بھی دعا کرتے رہیں​

بے وفا لوگوں سے بھی ہر دم وفا کرتے رہیں​

 

آپ تو رحمت ہی رحمت ہے جہانوں کے لئے​

میرے جیسے بے عمل اور بے ٹھکانوں کے لئے​

 

آپکا ہے روٹھنا ارض و سماں کا روٹھنا​

عرش کا سارے جہانوں کے خدا کا روٹھنا​

 

آپکی نظروں سے جو گرتا ہے مرجاتا ہے وہ​

راکھ بن کر اپنے قدموں میں بکھر جاتا ہے وہ​

 

اس طرح تو آدمی خود آدمی رہتا نہیں​

صاحب ایمان کیا ، انسان بھی رہتا نہیں​

 

کیسے کیسے دشمنوں پر رحم کھایا آپ نے​

آگ سے کتنے ہی لوگوں کو بچایا آپ نے​

 

اپنے جوتوں اپنے سائے میں بٹھا دیجیئے مجھے​

آپکا ناچیز خادم ہوں دعا دیجیئے مجھے​

 

زندگی کی تیز لہروں میں نہ بہہ جاؤں کہیں​

گرد بن کر راستے ہی میں نہ رہ جاؤں کہیں​

 

آپکو خاتون جنت اور علی واسطہ​

آپکو فاروق و عثمان غنی کا واسطہ​

 

آپکو خاتون جنت اور علی واسطہ​

آپکو فاروق و عثمان غنی کا واسطہ​

 

آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​

کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​

 

زندگی کو ایک بہت مشکل سفر درپیش ہے​

ایک مشکل امتحان بار دیگر درپیش ہے​

 

سوچ میں ڈوبا ہوا سوچ ہی میں قید ہوں​

بے بسی گھیرے ہوئے بے بسی میں قید ہوں​

 

ٹوٹتے جاتے ہیں سارے آسرے جتنے بھی ہیں​

بے اثر ہے لوگ سب چھوٹے بڑے جتنے بھی ہیں​

 

ٹوٹتے جاتے ہیں سارے آسرے جتنے بھی ہیں​

میری قسمت ہی بدل دے گا اشارہ آپ کا​

 

لوگ اکثر شاعر اصحاب کہتے ہیں مجھے​

ان کے خاطر روز شب بیتاب کہتے ہیں مجھے​

 

بے عمل ہوں مغفرت کا ایک سہارا ہے ضرور​

آپکا ہر ایک صحابی جان سے پیارا ہے ضرور​

 

بے عمل ہوں مغفرت کا ایک سہارا ہے ضرور​

آپکا ہر ایک صحابی جان سے پیارا ہے ضرور​

 

میں نے مختص کرلی اپنی چشم تر انکے لئے​

مضطرب رہتا ہوں میں شام و سحر انکے لئے​

 

میں نہ سر مد ہوں ، نہ مجنون ہوں ، نہ میں منصور ہوں​

انکا شاعر اور ان کا بندہ مزدور ہوں​

 

میری خواہش ہے کہ انکی خوبیاں لکھتا رہوں​

شوق سے میں آسمان کو آسماں لکھتا رہوں​

 

ان کے صدقے آپ مجھ پر مہربانی کیجیئے​

میرے حال زار پر آقا توجہ دیجیئے​

 

آپ سے رشتہ غلامی کا صدا قائم رہے​

خواجگی اور بندگی کی یہ فضا قائم رہے​

 

میرے سر پر مشکلوں کا آسماں گرنے کو ہے​

ذرہ اے ناچیز پر کوہ حرا گرنے کو ہے​

 

میرے سر پر مشکلوں کا آسماں گرنے کو ہے​

ذرہ اے ناچیز پر کوہ حرا گرنے کو ہے​

 

گھپ اندھیرے میں کھڑا ہوں اے حرا کے آفتاب​

پرذہ پرذہ ہورہی ہے میری خوشیوں کی کتاب​

 

میرے حق میں اپنے خالق سے دعا فرمایئے​

اے میرے آقا کرم کی انتہا فرمایئے​

 

دیکھتے ہیں تو مجھے بے آسرا کہتے ہیں لوگ​

عہد ماضی کی کوئی بھولی صدا کہتے ہیں لوگ​

 

کس طرح روکوں میں اس طوفان اور سیلاب کو​

ذہن سے کیسے نکالوں خوفناک اس خواب کو​

 

میری اپنی سانس بھی اب تو میرے بس میں نہیں​

تھک گئی ہیں چلتے چلتے اب میری لوح جبیں​

 

دیکھ کر دشوار راہیں زندگی گھبراگئی​

میرے گھر تک آتے آتے روشنی گھبراگئی​

 

سبز گنبد کی طرف اٹھتی ہیں نظریں بار بار​

آپکی رحمت کو دیتا ہے صدا یہ خاکسار​

 

خالق ارض و سماں سے اب دعا کیجیئے حضور​

مہرباں ہوجائے مجھ عاصی پہ اب رب غفور​

 

میری ہمت سے زیادہ ہے پریشانی کا بوجھ​

میں اٹھاسکتا نہیں اپنے تنِ فانی کا بوجھ​

 

راہ پہ چلتے ہوئے اب ڈگمگا جاتا ہوں میں​

سانس لینے پر بھی اب تو لڑکھڑا جاتا ہوں میں​

 

لب ہلادیجیئے میرے خاطر دعا کے واسطے​

رحم فرما دیجیئے مجھ پر خدا کے واسطے​

 

لب ہلادیجیئے میرے خاطر دعا کے واسطے​

رحم فرما دیجیئے مجھ پر خدا کے واسطے​

 

آپکی نعتیں میں لکھ لکھ کر سناؤں آپ کو​

کس طرح راضی کروں کیسے مناؤں آپ کو​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ