آپ کا ذکر مبارک لب بہ لب، شاہ عرب

آپ کا ذکر مبارک لب بہ لب، شاہ عرب

آپ کی توصیف ہے وجہ طرب، شاہ عرب

 

عمر بھر کرتا رہوں میں آپ کی مدحت رقم

اسسے بڑھ کر کچھ نہیں میری طلب، شاہ عرب

 

آپ کی ذات مقدس محسن نوع بشر

آپ پر قرباں ہوں میرے جد و اَب، شاہ عرب

 

آفتاب دہر، قندیل شبستان وجود

شمع محفل، ماحی ظلمات شب، شاہ عرب

 

عقل و فہم و دانش و حکمت کا بحر بے کراں

مخزن علم و ادب، امی لقب، شاہ عرب

 

اُسعد و مسعود و محمود و رسول ہاشمی

فخر آدم، نور چشم مطلب، شاہ عرب

 

آپ کے منشور میں یکساں ہیں سلطان و فقیر

قاطع عصبیت رنگ و نسب، شاہ عرب

 

آپ کی سیرت ہے آقا رہنمائے زندگی

آپ نے بخشا ہمیں جینے کا ڈھب، شاہ عرب

 

ارتداد و کفر کا سیلاب ہے پھر چار سو

آپ کی امت کی حالت ہے عجب، شاہ عرب

 

ہو گئی پھر سے دلوں میں آتش توحید سرد

اور سرکش ہے شرار بولہب، شاہ عرب

 

عصر حاضر کے مسلمانوں میں پیدا ہو گئے

پستی کردار کے آثار سب، شاہ عرب

 

ڈوبی ڈوبی سی ہے پھر نبض یقین و آگہی

عظمت انسانیت ہے جاں بلب، شاہ عرب

 

رہنما ہیں جادہ پیمائے فریب و مکر و فن

کارواں ہے مائل لہو و لعب، شاہ عرب

 

نوجوانوں میں نظر آنے لگی ہے خود سری

اٹھتا جاتا ہے بزرگوں کا ادب، شاہ عرب

 

ہو کوئی چشم تلطف خالد افسردہ پر

دور کیجئے دل سے سب رنج و تعب، شاہ عرب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ