آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا

آ گیا تقدیر سے میری مدینہ آ گیا

جس سے بام عرش پر پہنچوں وہ زینا آگیا

 

ہر قدم پر موت کا مجھ کو پسینا آگیا

عشق میں مرنا تو کیا مر مر کے جینا آگیا

 

مجھ سے عاصی کا ہوا جب ان کی امت میں شمار

حشر کے دن شرم سے مجھ کو پسینا آگیا

 

خم کے خم پی جائیں ہم ضائع نہ ہو اک بوند بھی

باندھ کر چلو ہمیں اب مے کا پینا آگیا

 

نام اقدس نقش ہے مہر نبوت کی طرح

کام میرے اب مرے دل کا نگینا آگیا

 

اے جنون کچھ دھجیاں میرے گلے میں ڈال

پھوٹتی ہے جس میں کونپل وہ مہینا آ گیا

 

میرے شیشے کی پری ہے گنبد خضرح کا عکس

مے کشو، جان مدینہ، سبز مینا آگیا

 

حشر زا ہے کس ادب سے آرزووں کا ہجوم

بزم دل میں بزم اقدس کا قرینا آگیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات