اردوئے معلیٰ

ائے تو ، کہ جسے آج بھی خوابوں پہ یقیں ہے

ائے تو ، کہ جسے آج بھی خوابوں پہ یقیں ہے

خوابوں کا خدا کون ہوا؟ کوئی نہیں ہے

 

یہ شعر بھلا کس کے ہوئے تجربے آخر

کیا میرے علاوہ بھی مری ذات کہیں ہے

 

وہ جو کہ خداوندِ سخن تھا ، سو کہاں ہے

اس شکل کا یہ کون ہے جو خاک نشیں ہے

 

جائیں تو کہاں جائیں ، گئے عہد کے کم رُو

اس شہرِ طلسمات میں ہر شخص حسیں ہے

 

گزرا نہیں تذلیل کی کس راہ گزر سے

کم بخت جو یکتائے جہاں اپنے تئیں ہے

 

ائے دشتِ شبِ تار ، تغافل میں کمی کر

اس بار ترے فرش پہ سورج کی جبیں ہے

 

اک زخم ذرا اور مری جان ، کہ اب تک

جس درد کی خواہش ہے وہ اٹھا ہی نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ