اردوئے معلیٰ

ائے کم نصیب زعمِ محبت ، ہلاک ہو

خود بھی شکست یاب یوا ، مجھ کو بھی کیا

 

ائے کہ اجل رسید وفا کے یقین ، جا

تو خآنماں خراب ہوا ، مجھ کو بھی کیا

 

تجھ کو کہا نہ تھا کہ بڑے بول، بول مت

اب خود بھی لاجواب یوا ، مجھ کو بھی کیا

 

وہ جو غرور تھا مری پہچان تھا وہی

ایسا گیا کہ خواب یوا ، مجھ کو بھی کیا

 

عریاں مری وفا کا تقدس ہوا کہ تو

جس وقت بے حجاب یوا ، مجھ کو بھی کیا

 

خوابوں کو پیاس مار گئی ، عشق کے بھرم

تو تو چلو سراب یوا ، مجھ کو بھی کیا

 

رکھا تھا مشکلوں سے بھرم دل کا ، پر کوئی

جس وقت بے نقاب یوا ، مجھ کو بھی کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات