ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام

ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام

ان پر نثار جان ودل ان پر درود اور سلام

ان کے نظر کے فیض سے خار بھی پھول ہوگئے

ان کے قدم سے مل گیا خاک کو عرش کا مقام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ تقدیر کے بدلتے ہیں
میں آپؐ کے در کا ہوں گداگر شہِ والا
میں اِک مسکیں گداگر اُنؐ کے در کا
محبت آپؐ کی ہے قلب و جاں میں
چراغ طُور ہے اُنؐ کی گلی میں
’’غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صدا‘‘
’’ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمّت؟‘‘
’’اُس رضا پر ہو مولا رضائے حق‘‘
’’خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے‘‘
حسن و جمالِ اُسوۂ آقا پہ ہو نظر!

اشتہارات