اردوئے معلیٰ

Search

ابھی تو عرض نے کھینچی نہ تھی نوائے نَو

برائے خاطرِ جاں ہو گئی عطائے نَو

 

حضور! لفظ کہاں ہیں جو پیشِ نعت کروں

بس ایک شوق ہے اور وہ بھی مبتلائے نَو

 

خبر تھی، طُرفہ نوازش ہے فردِ عصیاں پر

سو مجھ سے ہونے لگی ہے کوئی خطائے نَو

 

حذر حذر کہ کسی دستِ چارہ گر میں ہُوں

سنبھل کے آئے مری سمت اب بَلائے نَو

 

یہ خواب پھر سے سپردِ فراق ہونے کو ہے

طبیبِ دردِ نہاں دیجیے دوائے نَو

 

تھکن نے جیسے ہی جذبِ دروں کیا بے دَم

سرِ نیازِ سخن تن گئی ردائے نَو

 

نئی عطا کا سحابِ کرم برستا ہے

بہ حرفِ نعت مہکتی ہے جب دُعائے نَو

 

ورق ورق پہ سجائے ہیں مَیں نے مہرِ مبیں

عطا ہوئی ہے مرے حرف کو ضیائے نَو

 

علاجِ کربِ دروں چارہ گر کو زیبا ہے

رواں مدینے کو ہے اس لیے صدائے نَو

 

خمارِ خوابِ عنایت کی شب بکھرتے ہی

رکھیں گے شوق کی مقصودؔ پھر بِنائے نَو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ