اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کب درد بدلتے ھیں ! کب حال بدلتا ھے
مجھے عشق تھا' مجھے چاہ تھی' مجھے پیار تھا، مگر اب نہیں
تمام حالِ دلِ زار تُو تو جانتا ہے
تمھارے گاؤں کی پچھلی طرف پہاڑی ہے؟
ہر سفر اب مجھے ہجرت کا سفر لگتا ہے
تم کو دیوانہ اگر ہم سے ہزاروں ہیں تو خیر
نئی صدا ہو نئے ہونٹ ہوں نیا لہجہ نئی
یہ تو دنیا بھی نہیں ہے کہ کنارا کر لے
تیری دستار کے ہر بل میں نہاں سجدے ہیں
رہے گی یونہی انا سربلند شہزادے