اردوئے معلیٰ

اب تنگیِ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

اب تنگیِ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ

 

ہر چند کہ آقا نے بھرا ہے تیرا کشکول

کم ظرف نہ بن ہاتھ بڑھا اور بھی کچھ مانگ

 

سلطانِ مدینہ کی زیارت کی دُعا کر

جنت کی طلب چیز ہے کیا اور بھی کچھ مانگ

 

جن لوگوں کو شک ہے کہ کرم ان کا ہے محدود

ان لوگوں کی باتوں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

 

سرکار کا در ہے درِ شاہاں تو نہیں ہے

جو مانگ لیا مانگ لیا اور بھی کچھ مانگ

 

اس در پہ یہ انجام ہوا حُسنِ طلب کا

جھولی میری بھر بھر کے کہا اور بھی کچھ مانگ

 

پہنچا ہے جو اس در پہ تو رہ رہ کے نصیرؔ آج

آواز پہ آواز لگا اور بھی کچھ مانگ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ