اردوئے معلیٰ

اب ٹُوٹ گرے ہجر کی دیوار کریما

دے اذنِ حضوری مجھے اِس بار کریما

 

آنکھوں میں لیے مطلعِ جاءوک کی طلعت

آئے ہیں ترے در پہ گنہگار، کریما

 

مدحت نے سنوارے مرے احساس کے منظر

ہے نعت تری حاصلِ پندار، کریما

 

امید نے دیکھے تھے ترے خواب سہانے

ایقان سے اُبھرے ہیں یہ آثار، کریما

 

لب بستہ و دل رفتہ و جاں خستہ ہُوں حاضر

بس خامشی ہے صورتِ اظہار کریما

 

تُو آئے تو امکان کوئی زیست کا چمکے

بیمار تو جانے کو ہے تیار، کریما

 

مہکے ہیں تری یاد کی خُوشبو کے حوالے

چمکے ہیں تری دید کے انوار، کریما

 

اب کیسے بڑھے میری طرف دستِ معاصی

جب آپ ہُوئے میرے نگہدار، کریما

 

پاپوشِ ضیا بار کا ہے منظرِ تاباں

مقصودؔ کے سر پر ہے جو دستار، کریما

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات