اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

ساری دنیا میں چلے اسوۂ سرکار کی بات

 

نعتِ سرکار لکھوں اور عمل روشن ہو

مدحِ آقا سے بنے سیرت و کردار کی بات

 

ذکرِ اصحاب گرامی بھی ہے مدحت ان کی

نجم کی بات بھی ہے ماہ کے انوار کی بات

 

کاش اخلاص بھی حاصل ہو کبھی لفظوں کو

دل پاکیزہ کرے عشق کے اظہار کی بات

 

ہوک اٹھتی ہے جو کرتا ہے کوئی خواب کا ذکر

کاش میں بھی تو سناؤں کبھی دیدار کی بات

 

ان کی مدحت میں ہر اک لفظ صداقت چاہے

مجھ سے عاصی سے بھلا کیسے ہو معیار کی بات

 

نعمتوں کے تو وہ قاسم ہیں سُنیں گے وہ ضرور

مجھ سے قلاشِ عمل، مفلس و نادار کی بات

 

خیر کے پھول کھلیں ساری زمینوں میں عزیز

یوں سنی جائے کسی وقت گنہگار کی بات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ