اردوئے معلیٰ

اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا

میرا قیام ، شہرِ فسوں میں نہیں رہا

 

اُس کی حِنا بنے کہ بھلے رزقِ خاک ہو

وہ خون جو کہ میری رگوں میں نہیں رہا

 

ہو منتشر دھوئیں میں کہ رقصاں ہوا میں ہو

شعلہ ہوا خیال ، حدوں میں نہیں رہا

 

بڑھنے لگی زمین مری سمت جس طرح

شاید مرا وجود پروں میں نہیں رہا

 

ڈھونڈو مرے سراغ کہیں کشتگان میں

میں لوٹتے ہوؤں کی صفوں میں نہیں رہا

 

گُل کر دیے گئے میری آنکھوں کے قمقمے

یا واقعی وہ چاند شبوں میں نہیں رہا

 

لے دے کے چند ایک ہی موسم نصیب تھے

تُو اُن ہی دستیاب رُتوں میں نہیں رہا

 

عبرت سرائے دہر میں عُریاں کھڑا ہوں میں

اہرام تھا ، زمیں کی تہوں میں نہیں رہا

 

بوسے پہ جاگتا نہیں ، سویا ہوا محل

یہ وصف ، نامراد لبوں میں نہیں رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات