اردوئے معلیٰ

اب کیا بیاں دراز کریں واقعات کا

بس عہد ساز عہد رہا مشکلات کا

 

اب منحصر حیات تنفس پہ رہ گئی

باعث نہیں رہا کوئی ورنہ حیات کا

 

عادی ہوا جو دل تری نفرت کا اب اسے

دھڑکا لگا ہوا ہے ترے التفات کا

 

امکان زندگی کے بظاہر نہیں رہے

میں زکر کر رہا ہوں مگر ممکنات کا

 

جو زندگی کی دوڑ میں تو نے گنوا دیا

وہ آخری سراغ رہا میری ذات کا

 

زادِ رہِ جنون میں بس ایک اسم ہے

درپیش اک سفر ہے مجھے کائنات کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات