اردوئے معلیٰ

Search

اب کے محفل جو گاؤں میں ہوگی

نعت تاروں کی چھاؤں میں ہوگی

 

تم بہارِ درود مہکاؤ

سبز رنگت خزاؤں میں ہوگی

 

جارہا ہوں سوئے مدینہ میں

اب خجالت نہ پاؤں میں ہوگی

 

ہاتھ اُٹھّیں گے ان کے روضے پر

کتنی طاقت دعاؤں میں ہوگی

 

پھول مدحت کا لب پہ جاگا ہے

کوئی تتلی ہواؤں میں ہوگی

 

استغاثہ مراد پائے گا

خامشی بھی صداؤں میں ہوگی

 

نعرہِ پنجتن لگائیں گے

ناؤ خود ناخداؤں میں ہوگی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ