اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میرے حِصّے میں نہ آئے ھُوئے پانی ! تری خیر
اُداسی صحن کے کونے میں سمٹی سمٹائی
روز اک چاند مرا قتل ہوا جاتا ہے
لفظوں کو اعتماد کا لہجہ بھی چاہئے
تیری محبت بتا رہی ہے، یہ میٹھا لہجہ گواہ ہے تیرا
ہرجائیوں کے عشق نے کیا کیا کیا ذلیل
تری سوچ بھی سوچنی پڑ گئی ہے
میں اپنے شہر سے مایوس ہو کے لوٹ آیا
مرض عشق کی شاید ہو پس مرگ سفا
میں آسمان پہ واپس نہ لوٹ آؤں ؟ خدا