اردوئے معلیٰ

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا

اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا

مدحت کے پھول بن کے ہے گویا کھِلی ہوا

 

پڑھتے رہے درود مسلسل تمام شب

جگنو، لغت، گلاب، قلم، روشنی، ہوا

 

مجرم ہوں مجھ کو اُن کی عدالت میں لے گئی

میرے لئے تو پھول سی ہے ہتھکڑی ہوا

 

کعبہ ، حطیم ، گنبدِ خضرا، درِ رسول

پھر اس کے بعد اور کسے ڈھونڈتی ہوا

 

اس کو ملے تھے کیفِ حضوری کے رتجگے

میرے قلم کے ہاتھ رہی چومتی ہوا

 

آقا حضور، کب تلک، نیزے، علم، جلوس

آقا حضور، کب تلک، یہ ماتمی ہوا

 

باندھوں گا میں ہوا تری شہرِ حضور میں

گر لے اڑی تو جرمِ ضعیفی کبھی ہوا

 

بستی میں خون تھوکتے بچّوں نے مانگ لی

خاکِ شفا میں لپٹی ہوئی یا نبی، ہوا

 

لوٹا ہوں قتل گاہوں سے، آقا، ابھی ابھی

نوحے لکھے گی ہچکیاں لیتی ہوئی ہوا

 

لکھی نہ تھی، حضور، ابھی نعت آپ کی

میری ہتھیلیوں پہ گلستاں بنی ہوا

 

میں تو ازل سے آپ کے در کا فقیر ہوں

گمراہ کر سکی نہ مجھے آج بھی ہوا

 

آقا کے در پہ آج کھڑی ہے بصد ادب

کل تک شریر بچی کے مانند تھی ہوا

 

موسم ثنا کا شہرِ غزل میں مقیم ہے

کلیاں سخن کی بانٹتی ہے آج بھی ہوا

 

مٹھی میں بند کرنا بھی توہین اس کی تھی

دل میں رکھی ہے اس لئے طیبہ تری ہوا

 

آقا، ریاضؔ جاگتا رہتا ہے رات کو

کیا خوب ہو جو اس کی کرے مخبری ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ