اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے

اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے

محبت ، کائناتی مسئلہ ہے

 

بساطِ معجزاتِ روز و شب پر

مری یہ بے ثباتی مسئلہ ہے

 

تو کیا تم واقعی میں واقعہ ہو؟

کہ یہ بھی نفسیاتی مسئلہ ہے

 

نزاکت، آرزُو کا حُسن ٹھہری

مری بے احتیاطی مسئلہ ہے

 

مجھے چُھو کر بتا ، ہوں کہ نہیں ہوں

فقط یہ دو نکاتی مسئلہ ہے

 

بہت سادہ ہے دل ، درپیش جس کو

جنوں کا معجزاتی مسئلہ ہے

 

معیشت ہانکتی ہے زندگی کو

بقاء ، اب مالیاتی مسئلہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں
غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں
دشتِ امکان سے گزر جائیں
غرورِ شب کو کھٹکتا تھا اور ہی صورت