اردوئے معلیٰ

Search

از ازل تا بہ ابد اُن کے نگر سے فیضیاب

سارا عالم ہو رہا ہے اُن کے گھر سے فیضیاب

 

آپ ہی کی ہے عنایت آپ ہی کا ہے کرم

آرہے ہیں ہو کے سب بابِ اثر سے فیضیاب

 

آپ جن راہوں سے گزرے خُلد کی راہیں بنیں

حشر تک ہوں گے سبھی اُس رہ گزر سے فیضیاب

 

کوئے طیبہ کے مکیں ہیں بخت کے ایسے دھنی

روز ہوتے ہیں سدا شام و سحر سے فیضیاب

 

خوش نصیبی پھر سے لے جائے گی ہو کر آؤں گا

مسجدِ آقا کے ہر دیوار و در سے فیضیاب

 

غزوۂ بدر و اُحد میں آپ کے سب جانثار

آپ کے صدقے ہوئے فتح و ظفر سے فیضیاب

 

روزِ اوّل سے کھلا ہے اُن کا دربارِ عطا

کون ہے جو ہے نہیں آقا کے در سے فیضیاب

 

کربلا والوں کا صدقہ بانٹتے ہیں وہ سدا

سب زمانہ ہے نبی کے سیم و زر سے فیضیاب

 

پھر بلا لیجیے درِ اقدس پہ خاکیؔ کو حضور

پھر سے ہو جاؤں گا طیبہ کے سفر سے فیضیاب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ