اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں

اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں

گولیاں ہوتی ہیں جیسے پستول میں

 

اِک کنواں کھودنے کی فقط دیر تھی

پیاس رکھی ملی مجھ کو ہر ڈول میں

 

منتظر ہیں کسی آخری ہچکی کے

ہم انأوں کے زندانِ پُر ہول میں

 

کہہ رہی ہیں مناظر کی خاموشیاں

کس قدر تابکاری ہے ماحول میں

 

ہو گیا شل بدن اپنے ہی بوجھ سے

کاٹ ایسی تھی اُس لہجے میں ، بول میں

 

رات بھر دندناتے پھرے مرتضیٰ

یاد کے بھیڑیے سوچ کے غول میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر
مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات
کب سے اک سمت بلاتا ہے ستارا ہم کو
الجھے ہوئے ہیں عمر کی شاخوں کے ساتھ ہم