اردوئے معلیٰ

اسلم انصاری اور سید فخرالدین بلے ، داستانِ رفاقت

اسلم انصاری اور سید فخرالدین بلے ، داستانِ رفاقت
پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق اور قادرالکلام شاعر ہیں۔ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر اسلم انصاری کی تعلق داری ٗ دوستانہ روابط اور مراسم بلکہ رفاقت کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ پورے وثوق سے ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آنکھ کھولنے کے بعد سے ہم پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کو گھر کے ایک بڑے اور ایک فرد اور اپنے والد گرامی کے مقرب ٗ برادر اور دوست کے طور پر دیکھتے آرہے ہیں۔
جب ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب محکمہ اطلاعات و نشریات ٗ تعلقات عامہ ٗ ثقافت و سیاحت
ملتان اور بعد ازاں ملتان اور بہاولپور کے بیک وقت ڈویژنل ہیڈ تھے۔ اس وقت انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ملتان کا دفتر حسن پروانہ روڈ ملتان پر واقع تھا۔ (یہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا) عمارت کا فرنٹ پورشن دفتر اور بیک پورشن اقامت گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا ۔
گو کہ ہماری عمر بہت کم تھی ابھی ٹھیک سے بولنا اور چلنا پھرنا بھی نہیں آتا تھا لیکن دھندلا دھندلا یاد ہے مسعود اشعر ۔ حاجی کھوکھر ۔ اقبال ساغر صدیقی۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی۔ جناب اسلم انصاری صاحب اور دیگر بہت سے اصحاب اکثر ہمارے والد گرامی کے پاس آیا کرتے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ عمارت کے فرنٹ پورشن میں مین گیٹ سے متصل حصے کو صاف ستھرا اور پینٹ کروایا گیا۔ ایک طرح سے بٹوارہ سا ہوتا ہوا نظر آرہا تھا لیکن بنا کسی دیوار کیے۔ پھر عمارت کے اس سنوارے جانے والے حصے پر ملتان آرٹس کونسل کا بورڈ نصب ہوگیا۔ اور جب ہم نے دفتر کے اندر جاکر دیکھا تو جناب اسلم انصاری صاحب ڈویژنل سربراہ آرٹس کونسل کی کرسی پر براجمان تھے۔ اور پھر انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور اپنی ایگزیکٹو کی نشست پر ہمیں اٹھا کر بٹھا دیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اسلم انصاری کا یوم پیدائش
——
ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی اور مسعود اشعر صاحب والد گرامی کے پاس آۓ بیٹھے تھے کہ اچانک بڑے بھیا سید انجم معین بلے صاحب وارد ہوۓ اور فرمایا کہ فیض انکل ( فیض احمد فیض صاحب) تشریف لاۓ ہیں۔ یہ سنتے ہی تمام اصحاب کے چہرے کھل اٹھے اور سب کے سب فیض کا استقبال کرنے اٹھ کھڑے ہوۓ۔ اسلم انصاری صاحب کو بھی مطلع کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بادشاہ سلامت کی تشریف آوری ہورہی ہے۔ ایسے ان گنت واقعات ہیں جنہیں ہمارے بچپن کے یادگار واقعات کا نام دیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کی محبتوں ٗ قربتوں ٗ شفقتوں اور قرابت داری میں بچپن سے لے کر اب تک کا عرصہ بلکہ اب کی تمام تر عمر کو ہماری زندگی کا حسین ترین وقت گردانا جاۓ تو بےجا نہ ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کو ہم اکثر والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سے محو گفتگو دیکھا کرتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کے تحقیقی اور تنقیدی مقالات بھی اکثر و بیشتر سننے کا اعزاز حاصل ہوتا تھا ۔ سات صدیوں بعد ۔ رنگ ۔ سید فخرالدین بلے کا تخلیقی معجزہ بھی میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کی اسی عہد کی یادگار تحریروں میں سے ایک ہے۔
جب بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب نے ملتان آرٹس میں سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جشن تمثیل انیس سو بیاسی کا دھماکہ کیا تو تھیٹر کی دنیا اور تاریخ میں اس پچیس روزہ جشن تمثیل کو بھی ایک تاریخی ٗ انوکھا اور فقید المثال کارنامہ قرار دیا گیا۔ پچیس روزہ جشن تمثیل انیس بیاسی میں بھی بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی ڈھارس بندھانے اور حوصلہ افزای کرنے والوں میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب پیش پیش تھے۔
——
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
——
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ ، مرے اوپر گرا ہے
——
میری قامت سے ڈر نہ جا ئیں لوگ
میں ہوں سورج ، مجھے دیا لکھنا
——
جیسے چونکا دینے والے لہجے کے اشعار کے خالق بڑے بھیا جناب آنس معین کی المناک جواں مرگی پر ہم نے تمام ہی قرابت داروں کو اپنے اور سید فخرالدین بلے فیملی کی طرح دکھی اور غمگین دیکھا ان حد درجہ افسردہ اور غمگین لوگوں میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب بھی شامل تھے۔گزشتہ دنوں پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کا مقالہ ۔ آنس معین ایک لافانی اور صاحب طرز شاعرآنس معین ایک عبقری ٗ ایک شعلہ ٕ تخلیق ۔۔۔ ایک مدت کے بعد پڑھنے کا اتفاق
ہوا تو تو ہم دیر گۓ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پاسکے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر اسلم فرخی کا یوم وفات
——
ہم نے اپنے والد گرامی وبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے ساتھ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کی۔ لیکن والد گرامی کے کے حلقہ ٕ احباب میں شامل تمام تر احباب سے تمام تر محبان اور رفقا ٕ سے ہمارا رابطہ مسلسل برقرار رہا۔ ملتا سے ایک مرتبہ بھی ہم لوگ والد گرامی کی ملازمت کے باعث ایک مرتبہ پھر لاہور منتقل ہوگۓ ۔ لاہور میں بھی والد گرامی کی ادبی تنظیم کا قافلہ رواں دواں رہا اور قافلے کے پڑاؤ بھی مسلسل ہوتے رہے ۔ اور قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب نے ادبی رسالہ ہفت روزہ آواز ِ جرس ۔ لاہور کی اشاعت اشاعت کا سلسلہ شروع کردیا۔ آواز جرس کو پہلے شمارے سے ہی جناب احمد ندیم قاسمی صاحب کا بھی قلمی تعاون حاژل رہا تھا ۔ اور آواز جرس میں دنیاۓ شعر و ادب کی تمام ہی نامور شخصیات کی تخلیقات مسلسل اشاعت پزیر ہواکرتی تھیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کی تخلیقات بھی نہایت اہتمام کے ساتھ شامل اشاعت کی جاتی رہیں۔
جب حضرت احمد ندیم قاسمی صاحب کے پچھتر سالہ جشن کا اہتمام کیا گیا تو ملک بھر سے سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی متعدد اور نامور شخصیات نے شرکت کی ۔ ہمارے محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب کراچی سے اور ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب بھی ملتان سے تشریف لاۓ تھے۔ اواری ہوٹل کا ہال مہمانان گرامی سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب ہماری ساتھ والی نشست پر براجمان تھے۔ ہم نے ان سے گزارش کی کہ آپ ہمارے ساتھ ہی بلے ہاؤس چلیے اور وہیں پر آپ کا قیام بھی رہے گا۔ جناب اسلم انصاری صاحب کو ہم نے بتایا کہ والد گرامی اس تقریب میں طبیعت کی خرابی کے باعث شرکت نہ فرماسکے۔ قصہ مختصر ہم نے اسلم انصاری صاحب کے ساتھ آۓ ہوۓ صاحب شاید ان کا اسم شریف پروفیسر آفتاب تھا سے ان کے گھر کا مکمل پتہ اور فون نمبر دریافت کیا اور نوٹ کیا ۔ تقریب کا اختتام ہوا ۔ سب اپنے اپنے گھروں کی اور روانہ ہوگۓ۔ ہم جب اپنے گھر پہنچے اور والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کو تقریب کے احوال سے آگاہ کیا ۔اور اسلم انصاری صاحب کی بابت بھی مطلع کیا۔ تو انہوں نے لمحہ بھر کی تاخیر بنا ہمیں حکم دیا کہ میری ان سے فون پر بات کروادیجے اور بس پھر کیا ہوا یہ نہ پوچھیں ۔ ہم اس فون کال کے ختم ہوتے ہی اسلم انصاری صاحب کو لینے کےلیے روانہ ہوگۓ۔ اس کے بعد وہ جتنے بھی دن رہے ان کا قیام بلے ہاؤس میں ہی رہا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اگلے ہمارے والد گرامی سید فخرالدین بلے صاحب اور ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کے بہت سے مشترکہ دوستوں میں سے ایک ہمارے نہایت شفیو بزرگ حضرت ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب بھی تشریف لاۓ تھے۔ خوب بیٹھک جمی دھواں دھار گفتگو کے دور چلے
——
رباعی
——
تاریخ کے دھارے پہ بہے گی دنیا
جو کہتی ہے وہ کہتی رہے گی دنیا
تم لاکھ جتن اس کے بدلنے کے کرو
جیسی ہے اسی طرح رہے گی دنیا
——
اب ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کے چند شعری مجموعوں اور چند دیگر تحقیقی اور تنقیدی تصانیف پر مشتمل اس فہرست پر کہ جس کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔
——
خواب و آگہی (شاعری)
نقش عہد وصال کا(کلام)
شب عشق کا ستارہ (کلام)
ارمغان پاک(جدوجہد آزادی کی منظوم داستان)
فیضان اقبال(منظوم اقبالیات)
اقبال عہد آفرین
مطالعات اقبال
شعر و فکر اقبال
اردو شاعری میں المیہ تصورات
ادبیات عالم میں سیر افلاک کی روایت
تکلمات
زندگی کا فکری اورفنی مطالعہ
بیڑی وچ دریا(ناول)
نگار خاطر
چراغ لالہ
جسے میر کہتے ہیں صاحبو
غالب کا جہان معنی
مکالمات
فکر و انتقاد
——
پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری کو 2009ء میں تمغہ امتیاز سے نوا زا گیاتھا اور اب سے لگ بھگ پانچ چھ برس قبل کا قصہ ہے کہ خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران ملتان میں معروف دانشور اور شاعر ڈاکٹر اسلم انصاری کی فارسی زبان میں تصنیف”دیوان کامل”کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں خصوصی طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے پاکستانی میں تعینات کلچر قونصلر آغا شہاب الدین درائی نے شرکت کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر محمد اسلم کا یوم وفات
——
تقریب میں معروف دانشور اور ادیب ڈاکٹر اسد اریب، شاکر حسین شاکر، علامہ سید مجاہد عباس گردیزی اور دیگر نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسد اریب کا کہنا تھا کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے بعد ڈاکٹر اسلم انصاری پاک و ہند کی وہ دوسری شخصیت ہیں جن کے فارسی ادب سے اہالیان فارس مستفید ہوئے اور ان کے نام سے ایران کی یونیورسٹی میں ایک چیئر مخصوص ہے، تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کلچر قونصلر شہاب الدین درائی نے کہا کہ ڈاکٹر اسلم انصاری دنیائے فارسی ادب کا درخشاں ستارہ ہیں، اہالیان ملتان صرف بہاؤالدین زکریا اور شاہ شمس سبزواری پر فخر نہ کریں بلکہ گمنام زندگی بسر کرنے والے ڈاکٹر اسلم انصاری جیسی شخصیت پر بھی فخر کریں، جن کا فلسفہ، تقابل ادیان اور فارسی ادب پر بڑا کام ہے، اُنہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو بالعموم اور اہالیان ملتان کو بالخصوص انکا احترام کرنا چاہیے، انکے علم سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، ان جیسے عظیم افراد کے وجود کو غنیمت اور باعث رحمت سمجھنا چاہیے۔ بعدازاں ڈاکٹر اسلم انصاری نے کلچر قونصلرشہاب الدین درائی کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی توجہ اور خانہ فرہنگ ایران ملتان کی ناظمہ خانم زاہدہ بخاری کی کاوشوں سے بالآخر کتاب کی اشاعت کا کام انجام پذیر ہوا۔ اور2020ء کو ڈاکٹر اسلم انصاری صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔اورماہ رواں گویا کہ اپریل 2022 میں پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کے گھروں کے باہر ملتان کی انتظامیہ یعنی کہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنی ٹیم اور مقامی شعرا ٕ اور ادبا ٕ اور صحافیوں کے ہمراہ حکومت پنجاب کی جانب سے عصر حاضر کے مقتدر اسکالر ٗ محقق اور شاعر کے نام کا پتھر نصب کیا کہ جس پر پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب اور پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کے اسماۓ مبارک تاریخ ولادت اور خدمات کا ذکر کندہ کیا گیا ہے ۔ گویا کہ ڈپٹی کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان صاحب محسنین ملک و ملت اور شعر و ادب کی برگزیدہ ہستیوں کی خدمات کا برملا اعلان کرکے دراصل ان کے کمال فن کا اعتراف کیا ہے اور یہ حد درجہ احسن اقدام ہے اس کو سراہے جانے کی ضرورت ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ