اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

بہرِ کرم سوئے حرم اپنا دھیاں رکھا گیا

 

شہرِ نبی کی رفعتیں کوئی بشر سمجھے گا کیا

جس کی زمیں کے زیرِ پا ہر آسماں رکھا گیا

 

کیسا حسیں وہ قرب تھا محبوب سے معراج پر

بس درمیاں میں فاصلہ مثلِ کماں رکھا گیا

 

رتبے ہوئے محبوب کو کتنے عطا کس کو پتا

کچھ ہو گئے ہم پر عیاں کچھ کو نہاں رکھا گیا

 

تجھ پر قدم ان کے پڑے تجھ پر ہوئے وہ ملتفت

تب ہی تجھے کوئے نبی رشکِ جناں رکھا گیا

 

تشنہ لبی حد سے بڑھی برسا دیئے ابرِ کرم

سرکار کے نوکر تجھے پیاسا کہاں رکھا گیا

 

احسان ہے کتنا بڑا اشفاق پر اللہ کا

اس کو شہِ ہر دوسرا کا نعت خواں رکھا گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات