اردوئے معلیٰ

Search

اُسی کو ترکِ وفا کا ، گُماں ستانے لگے

جسے بھلاؤں تو ، کچھ اور یاد آنے لگے

 

اِسے سنبھال کے رکھو , خزاں میں لَو دے گی

یہ خاکِ لالہ و گُل ھے , کہیں ٹھکانے لگے

 

تجھے میں اپنی مُحبت سے , ھٹ کے دیکھ سکوں

یہاں تک آنے میں مجھ کو , کئی زمانے لگے

 

یہ اُس کا جِسم ھے ، یا ھے طلسمِ خواب کوئی

ادھر نگاہ اُٹھاؤں تو ، نیند آنے لگے۔

 

کسی بہار سے تسکین آرزو نہ ھُوئی

جو پُھول صُبح کِھلے ، شام کو پرانے لگے

 

نوید دورئ منزل ثبات دے مجھے

کہ قرب سے تو قدم اور ڈگمگانے لگے۔

 

وفا بھی حل ھو تو ایسا نہ ھو سلیم ، کہ پھر

دل خراب نئے مسئلے اُٹھانے لگے۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ