اردوئے معلیٰ

اسے بھی روک لیا، خود بھی چل نہیں رہا ہوں

سفر بھی کیا ہو کہ میں خود سنبھل نہیں رہا ہوں

 

کوئی چراغ مری جستجو میں جل رہا ہے

میں آفتاب ہوں لیکن نکل نہیں رہا ہوں

 

ہزاروں مشکلیں درپیش آ رہی ہیں مجھے

مگر یہ کم ہے کہ رستہ بدل نہیں رہا ہوں

 

مجھے چراغوں میں کرتا نہیں شمار کوئی

دھواں تو اٹھتا ہے لیکن میں جل نہیں رہا ہوں

 

یہ عشق میرے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے

نگل نہیں رہا ہوں میں ، اگل نہیں رہا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات