اردوئے معلیٰ

Search

اسے زمانہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے

وہ جس کا شجرہ تمہارے نسب سے ملتا ہے

 

ہمای فکر میں اپنا کوئی ہنر ہی نہیں

ہمیں تو لفط بھی تیرے سبب سے ملتا ہے

 

بہارِ ورد کو ہوتی ہے جب گلوں کی تلاش

گلاب حرف خیابانِ لب سے ملتا ہے

 

اتارتا ہے تھکن وہ درِ فضیلت پر

صدی کا فاصلہ جو ” ایک شب ” سے ملتا ہے

 

وہاں پہ تنگی و تفریق کا گزر ہی نہیں

وہاں سوالی کو اپنی طلب سے ملتا ہے

 

نگاہِ خامہ اسے بار بار چومتی ہے

وہ حرفِ پاک جو تیرے لقب سے ملتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ