اردوئے معلیٰ

Search

اس ادا سے تاجدار کربلا سجدے میں ہے

ہو بہو جیسے حبیب کبریا سجدے میں ہے

 

تیرے نیزے اور تلواریں نہ پھیریں گی اسے

اے ستم پیشہ عبادت آشنا سجدے میں ہے

 

آسماں حیرت زدہ ہے اس نماز عشق پر

پشت پرحسنین ہیں شاہِ ہدیٰ سجدے میں ہے

 

کربلا کی ریت پر ایسا گل وَانحر کھلا

جس کے آگے ہر چمن زار رضا سجدے میں ہے

 

ہو رہی ہے فکر عالم ایسے سجدے پر نثار

بے وفاؤں کے علاقے میں وفا سجدے میں ہے

 

اس لیے اپنے ہی بحرخوں میں غوطہ زن ہوئے

جانتے تھے وہ کہ دُرِ بے بہا سجدے میں ہے

 

روک پائیں کیا اسے ظلم و جفا کی آندھیاں

دیکھ وَاسجدُ و اقترب کا آئِنہ سجدے میں ہے

 

جان دیکر بھی حفاظت میں نہیں رکھا دریغ

کربلا والوں کو تھا معلوم کیا سجدے میں ہے

 

کہہ رہا ہے آخری سجدہ حسین پاک کا

در حقیقت بندگی کی ارتقا سجدے میں ہے

 

کربلا میں کس چمن کے پھول ہیں بکھرے ہوئے

جنت الفردوس کی ساری فضا سجدے میں ہے

 

ریت کی چادر ہے اور ہیں خون کی گل کاریاں

کس مصلّے پر شہہ کرب و بلا سجدے میں ہے

 

کر دیا ثابت مرے شبیر کی ترجیح نے

دولت دارین سے بھی کچھ سوا سجدے میں ہے

 

سجدۂ ابن علی کا جب سے آیا ہے خیال

نورؔ میری فکر کا ہر زاویہ سجدے میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ