اردوئے معلیٰ

اس خاک سے جو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں

پرواز کی خواہش میں سزا کاٹ رہے ہیں

 

اس روزِ خوش آثار کی سچائی تو یہ ہے

اک رات سر دشتِ بلا کاٹ رہے ہیں

 

حبس اتنا ہے سینے میں کہ لگتا ہے مسلسل

ہم سانس کے آرے سے ہوا کاٹ رہے ہیں

 

بیکار کہاں بیٹھے ہیں مصروف ہیں ہم لوگ

ہم اپنی صداؤں کا گلا کاٹ رہے ہیں

 

خیاطِ قلم بر سر بازارِ صحافت

پوشاک کو قامت سے بڑا کاٹ رہے ہیں

 

ہر روز بدل دیتے ہیں دیوار پہ تحریر

خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہے ہیں

 

ٹکراتے ہیں موجوں کی طرح سنگِ ستم سے

ہر روز چٹانوں کو ذرا کاٹ رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات