اردوئے معلیٰ

Search

اس شہرِ شب زدہ میں کہ جنگل سے کم نہیں

جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں

 

اک مختصر سا لمحۂ بے نور و بے یقین

تقویمِ شب میں ساعتِ فیصل سے کم نہیں

 

اک یاد مشکبو تری زلفِ سیاہ کی

چشمِ شبِ فراق میں کاجل سے کم نہیں

 

دامانِ احتیاج میں دینارِ بے کسب

جوفِ شکم میں تیغ مصقّل سے کم نہیں

 

حاصل ہے سخت کوشیِ عمرِ خراب کا

اک خطۂ زمین جو دلدل سے کم نہیں

 

بنجر زمین، دھوپ اور اک خالی آسمان

سایہ کسی پرند کا بادل سے کم نہیں

 

سیالِ غم بھی ڈھونڈ کے تم نے پیا ظہیرؔ

تریاق جس کا زہر کی بوتل سے کم نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ