اس مصیبت کا حل تو بین میں ہے

اس مصیبت کا حل تو بین میں ہے

سانپ اک اور آستین میں ہے

 

ہے لہو میں تمہارے کم ظرفی

بے وفائی تمہارے جین میں ہے

 

جس پہ لاکھوں کا عشق وارا تھا

اب وہ تیرہ میں ہے نہ تین میں ہے

 

میں نکل تو رہی ہوں سوئے فلک

میری منزل اسی زمین میں ہے

 

پردہ گرنے تلک نہ اٹھنا تم

راز سارا ڈراپ سین میں ہے

 

دکھ کا موسم بدلنے والا ہے

بے یقینی سی اس یقین میں ہے

 

اب کوئی اور عشق ؟ ناممکن

شرک ممنوع میرے دین میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہیں میرے گھر میں چھ افراد ، ساتواں دکھ ہے
گلہ کرونگی تو روٹھ جائے گا ڈانٹ دے گا
فقط تہجی کے عام حرفوں پہ مشتمل تھا
بزرگ رخصت ہوئے ہیں لیکن برآمدے میں
اس بار تھکن جسم نہیں ، روح میں اتری
وضو نہ ہو تو تیمم کے اہتمام کے ساتھ
ہجر کی دھار کوئی جیسے چُھری ہوتی ہے
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں