اردوئے معلیٰ

Search

اس مصیبت کا حل تو بین میں ہے

سانپ اک اور آستین میں ہے

 

ہے لہو میں تمہارے کم ظرفی

بے وفائی تمہارے جین میں ہے

 

جس پہ لاکھوں کا عشق وارا تھا

اب وہ تیرہ میں ہے نہ تین میں ہے

 

میں نکل تو رہی ہوں سوئے فلک

میری منزل اسی زمین میں ہے

 

پردہ گرنے تلک نہ اٹھنا تم

راز سارا ڈراپ سین میں ہے

 

دکھ کا موسم بدلنے والا ہے

بے یقینی سی اس یقین میں ہے

 

اب کوئی اور عشق ؟ ناممکن

شرک ممنوع میرے دین میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ