اردوئے معلیٰ

اس نے لا ریب مکاں خلد میں اپنا دیکھا

جس کی آنکھوں نے کبھی گنبد خضرا دیکھا

 

آسماں دست نگر خاک قدم کا تیری

آب دریا کو ترے فیض کا پیاسا دیکھا

 

ان کے اوصاف بھی ان کی ہی طرح روشن ہیں

نعت لکھتے ہوئے لفظوں میں اجالا دیکھا

 

خیر مقدم کو ترے اے شہ افلاک و زمیں

دیکھنے والوں نے جھکتے ہوئے کعبہ دیکھا

 

جب سے ہے خطۂ ہستی میں مدینے کی بہار

کیسا گلزار نظر آتا ہے صحرا دیکھا

 

نعت کے پھولوں سے بھرنے لگا دامان دماغ

چشم احساس نے ایسا بھی نظارہ دیکھا

 

کام اشکوں سے لیا ان کے در اقدس پر

منجمد ہونٹوں پہ جب حرف تمنا دیکھا

 

آپ سے پہلے زما نے میں تھی کمیاب مثال

چشم دنیا نے مروت کا جو چہرا دیکھا

 

کون آمادۂ جلوہ شب معراج ہوا

واہ وہ حسن نظر جس نے وہ جلوہ دیکھا

 

جن کے مولا ہیں نبی ان کے علی مولا ہیں

ایک نسبت نے کیا کیسا کرشمہ دیکھا

 

جب سے سرکار کی مدحت کی بہار آئی کفیل

ہم نے افکار کا گلشن تر و تازہ دیکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات