اس نے لا ریب مکاں خلد میں اپنا دیکھا

اس نے لا ریب مکاں خلد میں اپنا دیکھا

جس کی آنکھوں نے کبھی گنبد خضرا دیکھا

 

آسماں دست نگر خاک قدم کا تیری

آب دریا کو ترے فیض کا پیاسا دیکھا

 

ان کے اوصاف بھی ان کی ہی طرح روشن ہیں

نعت لکھتے ہوئے لفظوں میں اجالا دیکھا

 

خیر مقدم کو ترے اے شہ افلاک و زمیں

دیکھنے والوں نے جھکتے ہوئے کعبہ دیکھا

 

جب سے ہے خطۂ ہستی میں مدینے کی بہار

کیسا گلزار نظر آتا ہے صحرا دیکھا

 

نعت کے پھولوں سے بھرنے لگا دامان دماغ

چشم احساس نے ایسا بھی نظارہ دیکھا

 

کام اشکوں سے لیا ان کے در اقدس پر

منجمد ہونٹوں پہ جب حرف تمنا دیکھا

 

آپ سے پہلے زما نے میں تھی کمیاب مثال

چشم دنیا نے مروت کا جو چہرا دیکھا

 

کون آمادۂ جلوہ شب معراج ہوا

واہ وہ حسن نظر جس نے وہ جلوہ دیکھا

 

جن کے مولا ہیں نبی ان کے علی مولا ہیں

ایک نسبت نے کیا کیسا کرشمہ دیکھا

 

جب سے سرکار کی مدحت کی بہار آئی کفیل

ہم نے افکار کا گلشن تر و تازہ دیکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات