اردوئے معلیٰ

اس کارزارِ زیست میں تنگ آ گئے ہیں ہم

اس کارزارِ زیست میں تنگ آ گئے ہیں ہم

لے کر اجل کی تیغ و خدنگ آ گئے ہیں ہم

 

یاروں سے کی وفا تو جفا کا ، ملا فریب

سکرات میں بہ عرصہ بنگ آ گئے ہیں ہم

 

جو آئینہ غبار و کدورت سے پاک تھا

اس پر بھی اب جو لگ گیا زنگ آ گئے ہیں ہم

 

نقش بر آب تھے تو ترا خوف تھا اجل

اب آ کہ بن کے کتبہ سنگ آ گئے ہیں ہم

 

آمد حریف کی ہو کہ آمد اجل کی ہو

لے کر رباب و بربط و چنگ آ گئے ہیں ہم

 

خون دل شکستہ کے گہرے کفن پہ داغ

پہنے ہوئے لباسِ دو رنگ آ گئے ہیں ہم

 

پھیلا کے دام دوست نے ہم کو طلب کیا

بے وقفہ و دریغ و درنگ آ گئے ہیں ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ