اس کا اسمِ گرامی وردِ لساں

اس کا اسمِ گرامی وردِ لساں

اس کا ہر سو کرم ہوا ہے رواں

 

سارا عالم گدا ہوا اس کا

اس کا در ہی ہوا اماں کی اماں

 

کوئے احمد ہے اس طرح مہکا

موسمِ گل کا ہر گھڑی ہو گماں

 

وہ ہے محور ، کرم کا ہر لمحہ

وہ ہے مالک وہی مرا سلطاں

 

وہ امامِ رسل مرادِ امم

اس سے مہکا ہے عالمِ امکاں

 

وہ دلارِ الٰہی ہے سائلؔ

اس سے اولیٰ کہاں ہے اعلیٰ کہاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ