اردوئے معلیٰ

اس کا ثانی نہیں اس زمیں پر کہیں اس کے جیسا کہاں دوسرا اور ہے

اس کا ثانی نہیں اس زمیں پر کہیں اس کے جیسا کہاں دوسرا اور ہے

چاند سورج سے پوچھا تو کہنے لگے نقش پائے حبیب خدا اور ہے

 

جو نظر پڑ گئی ہوش کھونے لگی پڑھ لیا جس نے دل نذر کرنے لگا

صاحبان نظر کا ہے یہ فیصلہ مصحف چہرۂ مصطفیٰ اور ہے

 

ہیں جہاں میں بہت اور خاصانِ رب محترم ہیں ہماری نگاہوں میں سب

جسکی عظمت کا قرآن خطبہ پڑھے بالیقیں وہ حبیبِ خدا اور ہے

 

صرف دنیا ہی کیا ہفت افلاک پر اور بھی انبیاء جلوہ گر ہیں مگر

عرش اعظم پہ جس کو بلایا گیا کون میرے نبی کے سوا اور ہے

 

گرچہ رشد و ہدایت کے افلاک پر اور ہیں چاند، سورج ، ستارے بہت

ظلمت کفر جو پارہ پارہ کرے سچ تو یہ ہے وہ بدر الدجیٰ اور ہے

 

حشر کا لمحہ ہوگا بڑا پرخطر باپ لے گا نہ بیٹے کی اپنے خبر

ایسے حالات میں عاصیوں کے لیے کیسے کہہ دوں کوئی دوسرا اور ہے

 

کتنے مقبول بندوں نے کی ہے دعا اور دامن مرادوں سے انکا بھرا

جو ہمارے لیے سرور دیں نے کی اپنے معبود سے وہ دعا اور ہے

 

بے سہاروں کو کس نے سہارا دیا غم نصیبوں کو کس نے خوشی بخش دی

اک تمہارے علاوہ مرے مصطفیٰ رحمت کل کوئی کیا ہوا اور ہے

 

اور بھی شہر ہیں کتنے جنت نشاں دیکھ کر جنکو ہوتے ہیں دل شادماں

اے مدینہ ترا کوئی ثانی کہاں دلکشی تیری ، تیری فضا اور ہے

 

یہ زمیں ساری سجدوں سے معمور ہے کتنے سجدے بڑے معتبر ہیں مگر

زیر شمشیر شبیر نے جو کیا سجدہ وہ بر سرِ کربلا اور ہے

 

جب غموں کے اندھیروں نے گھیرا مجھے نور ؔانکا کرم یاد آنے لگا

انکی رحمت نے مجھ کو سہارا دیا کیا کوئی ایسا مشکل کشا اور ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ