اردوئے معلیٰ

اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا

اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا

میں سجاتا تھا سرکار کی محفلیں مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا

 

ذکر سرکار کی ہیں بڑی برکتیں مل گئیں راحتیں عظمتیں رفعتیں

میں گنگار تھا بے عمل تھا مگر مصطفی نے مجھے جنتی کر دیا

 

لمحہ لمحہ ہے مجھ پر نبی کی عطا دوستو اور مانگوں میں مولا سے کیا

کیا یہ کم ہے کہ میرے خدا نے مجھے اپنے محبوب کا امتی کردیا

 

جو بھی آیا ہے محفل میں سرکار کی حاضری مل گئی جس کو دربار کی

کوئی صدیق فاروق عثمان ہوا اور کسی کو نبی نے علی کر دیا

 

جو در مصطفی کے گدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گئے

ایسی چشم کرم کی ہے سرکار نے دونوں عالم میں ان کو غنی کردیا

 

کوئی مایوس لوٹا نہ دربار سے جو بھی مانگا ملا میری سرکار سے

صدقے جاوں نیازی میں لج پال کے ہر گدا کو سخی نے سخی کر دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ