اس کو ہے دو جہان کی راحت ملی ہوئی

اس کو ہے دو جہان کی راحت ملی ہوئی

جس کو ہے میرے شاہ کی چاہت ملی ہوئی

 

ان کو قسم خدا کی ہے جنت ملی ہوئی

جن کو شہِ امم کی ہے قربت ملی ہوئی

 

جو آلِ مصطفی کو ہے عظمت ملی ہوئی

وہ اور بھی کسی کو ہے رفعت ملی ہوئی؟

 

ہیں بادشاہ دیکھ کے حیرت سے دم بخود

ان کے فقیر کو ہے وہ عزت ملی ہوئی

 

میں بھی تو ہوں غلام دیارِ حبیب کا

میری بھی ہے حضور سے نسبت ملی ہوئی

 

آتی ہے روز چوم کے روضہ حضور کا

بادِ صبا کو خوب ہے قسمت ملی ہوئی

 

ہوتی ہے صِرف ان کی مدینے میں حاضری

جن کو حضور سے ہو اجازت ملی ہوئی

 

ہوتی ہے صَرف مدحِ خدا و رسول میں

آصف مجھے ہے جتنی بھی طاقت ملی ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات