اردوئے معلیٰ

Search

اس کی باتوں میں مہک، فکر میں گیرائی ہو

جس نے کچھ روز مدینے کی ہوا کھائی ہو

 

ان کی نسبت سے اگر اپنی شناسائی ہو

اپنی مٹی سے عیاں شعلہ سینائی ہو

 

اتنا ویران، خموش اور پہن افتادہ

دشت اس آہوئے بطحا کا نہ شیدائی ہو

 

کتنے خورشید طلوع ہوں میری خاکستر سے

کتنے جلووں کو عطا لذت پیدائی ہو

 

مل ہی جائے گا تجھے دامن یوسف اک دن

دل میں پیوستہ اگر شوق زلیخائی ہو

 

جس کو رد کر دیں وہی چیز مردد ٹھہرے

جس کو رعنائی وہ کہہ دیں وہی رعنائی ہو

 

جانور پہنچیں وہاں اپنی شکایت لے کر

چوب حنانہ کی دربار میں شنوائی ہو

 

ان کے سینے بھی اگل دیں گے دفینے کتنے

پتھروں کو بھی اگر رخصت گویائی ہو

 

کتنے متضاد کوائف ہیں ترے اے زائر

شہر جاناں میں ہو تو اور شکیبائی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ