اردوئے معلیٰ

Search

اس گھڑی اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا

جس گھڑی طیبہ نگر میرا بھی جانا ہوگا

 

ہم غریبوں پہ کرم گر نہ تمہارا ہوگا

پھر غریبوں کا بھلا کیسے گزارا ہوگا

 

بالیقیں باغ جناں اسکا ٹھکانہ ہوگا

عشق سرکار میں جو عمر گزارا ہوگا

 

ترا در چھوڑ کے جائیں گے کہاں اور شہا

ہم فقیروں کا کہاں اور ٹھکانہ ہوگا

 

چاند تاروں سے بھی روشن ہے جب ایڑی انکی

پھر بھلا کیسا مرے شاہ کا چہرہ ہوگا

 

کوئی اعمال نہیں پاس ہمارے آقا !

"ہم فقیروں کو فقط تیرا سہارا ہوگا”

 

اپنے آقا کی محبت کو بسا لو دل میں

اس کی برکت سے لحد میں بھی اُجالا ہوگا

 

دولت عشق نبی جس کو ہے حاصل شاہد

دونو عالم میں نہیں اسکا خسارا ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ