اردوئے معلیٰ

Search

اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن

پاسِ آدابِ مواجہ کوئی اظہار مکُن

 

لوٹ جانا تو مقدر ہے مدینے سے، مگر

دل کا معکوس تقاضا ہے کہ ایں کار مکُن

 

یادِ سرکار چلی آتی ہے انوار بہ کف

رتجگا خُوب ہے تو حسرتِ دیدار مکُن

 

دیکھ! سُورج سے نہیں مانگتے انوار کی بھیک

یہ مدینہ ہے یہاں شوق پہ اصرار مکُن

 

بٹتی ہے اُس درِ نعمت پہ متاعِ کونین

مانگنے والے ! سنبھل، ہاتھ بڑھا، عار مکُن

 

ٹُوٹ جائے نہ کہیں سانس کی لرزش سے خیال

دید کو ہوش نہ دے، خواب کو بیدار مکُن

 

بے طلب کھِلتا ہے مقصودؔ گُلِ شوق یہاں

جذب کے کیف کو خواہش میں گرفتار مکُن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ