اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن

اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن

پاسِ آدابِ مواجہ کوئی اظہار مکُن

 

لوٹ جانا تو مقدر ہے مدینے سے، مگر

دل کا معکوس تقاضا ہے کہ ایں کار مکُن

 

یادِ سرکار چلی آتی ہے انوار بہ کف

رتجگا خُوب ہے تو حسرتِ دیدار مکُن

 

دیکھ! سُورج سے نہیں مانگتے انوار کی بھیک

یہ مدینہ ہے یہاں شوق پہ اصرار مکُن

 

بٹتی ہے اُس درِ نعمت پہ متاعِ کونین

مانگنے والے ! سنبھل، ہاتھ بڑھا، عار مکُن

 

ٹُوٹ جائے نہ کہیں سانس کی لرزش سے خیال

دید کو ہوش نہ دے، خواب کو بیدار مکُن

 

بے طلب کھِلتا ہے مقصودؔ گُلِ شوق یہاں

جذب کے کیف کو خواہش میں گرفتار مکُن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حضورؐ بندۂ عاجز گناہگار ہوں میں
تمام عمر کا حاصل حصول صلِ علیٰ
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
روشنی لفظ کی تا حدِ نہاں کھُلتی ہے
صبحِ کرم، شامِ عطا شمس الضّحیٰ، بدر الدّجیٰ
مطلعِ رفعتِ بے حد پہ رقم ہے، ذکرک
مجھے برساتِ رحمت میں وہ جینا یاد آتا ہے
بہ صد نیاز ، بہ صد احترام آیا ہے
کہتے ہیں سبھی دیکھ کے دربار تمہارا
عشق بس عشق مصطفےٰ مانگوں

اشتہارات