اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں

اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں

اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

 

ہم مے گُسار بھی تھے سراپا سخا و جود

لیکن کبھی کسی نے پکارا نہیں ہمیں

 

دل کے معاملات میں کیا دوسروں کو دخل

تائیدِ ایزدی بھی گوارا نہیں ہمیں

 

رندِ قدح گسار بھی ہیں بُت پرست بھی

قدرت نے کس ہُنر سے سنوارا نہیں ہمیں

 

دردِ فراق مظلمۂ مستقل سہی

عرضِ وصال بھی تو گوارا نہیں ہمیں

 

اک وہ کہ سو نمود و نمائش کے اہتمام

اک ہم کہ احتیاجِ نظارا نہیں ہمیں

 

ڈھونڈیں کہاں سحر کو تمہیں اے غزالِ شب

اب نام بھی تو یاد تمہارا نہیں ہمیں

 

آزادہ رو ہیں مسندِ عرشِ بریں سے ہم

اُترے ہیں خود کسی نے اُتارا نہیں ہمیں

 

گُم صُم ہے کس خیال میں اے روحِ کائنات

اب تو نے مدتوں سے پکارا نہیں ہمیں

 

اتنا تو حوصلہ تھا کہ کھینچیں ردائے دوست

اب ہاتھ کھینچتے ہیں تو یارا نہیں ہمیں

 

اب کیا سنور سکیں گے ہم آوارگانِ عشق

صدیوں کے جبر نے تو سنوارا نہیں ہمیں

 

ہاتھوں میں ہے ہمارے گریبانِ کائنات

لیکن ابھی جنوں کا اشارہ نہیں ہمیں

 

اک ورطۂ بلا ہی سہی شورشِ حیات

اس ورطۂ بلا سے کنارا نہیں ہمیں

 

خُوبانِ شہر آؤ کہ دنیا سے کچھ لگاؤ

بے شاہدانِ انجمن آرا نہیں ہمیں

 

آغوشِ گُل ہمارے لیے کائنات ہے

ارمانِ اصفہان و بخارا نہیں ہمیں

 

کھینچی اگر تو ہوش میں کھینچیں گے زلفِ دوست

منظور بے خودی کا سہارا نہیں ہمیں

 

ڈھونڈو کوئی نئی روشِ شاعری ظفر

اسلُوب دوسروں کا گوارا نہیں ہمیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ