اردوئے معلیٰ

اضطرارِ مدینہ

مبارک ہو اے بیقرارِ مدینہ

بلاوا ہے یہ اضطرارِ مدینہ

 

ہو طے جلد اے رہگذارِ مدینہ

بہت سخت ہے انتظارِ مدینہ

 

الہٰی دکھا دے بہارِ مدینہ

کہ دل ہے بہت بیقرارِ مدینہ

 

یہ دل ہو اور انوار کی بارشیں ہوں

یہ آنکھیں ہوں اور جلوہ زارِ مدینہ

 

ہوائے مدینہ ہو بالوں کا شانہ

ہو آنکھوں کا سُرمہ غبارِ مدینہ

 

وہاں کی ہے تکلیف راحت سے بڑھ کر

مجھے گُل سے بڑھ کر ہے خارِ مدینہ

 

کبھی گرد کعبہ کے ہوں میں تصدق

کبھی جا کے ہوں میں نثارِ مدینہ

 

کبھی لطف مکہ کا حاصل کروں میں

کبھی جا کے لوٹوں بہارِ مدینہ

 

رہے میرا مسکن حوالیٔ کعبہ

بنے میرا مدفن دیارِ مدینہ

 

پہنچ کر نہ ہو لوٹنا پھر وہاں سے

وہیں رہ کے ہو جاں سپارِ مدینہ

 

بصد عیش سوؤں میں تا صبحِ محشر

جو ہو میرا مرقد کنارِ مدینہ

 

مجھے چپہ چپہ زمیں کا ہو طیبہ

میں ایسا بنوں رازدارِ مدینہ

 

میں پسماندہ ہوں کیوں نہ حسرت سے دیکھوں

سُوئے عازمانِ دیارِ مدینہ

 

وہاں جلوہ فرما حیات النبی ہیں

زہے زائرینِ مزارِ مدینہ

 

نمک بر جراحت ہے اُف ذکرِ طیبہ

کہ ہوں آہ میں دلفگارِ مدینہ

 

میں جاؤں وہاں نیک اعمال لے کر

کہ یارب نہ ہُوں شرمسارِ مدینہ

 

الہٰی بصد شوق مجذوبؔ پہنچے

یہ ناکام ہو کامگارِ مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ