اردوئے معلیٰ

البم سے کئی عکس پرانے نکل آئے

لمحات کے پیکر میں زمانے نکل آئے

 

بھولے ہوئے کچھ نامے، بھلائے ہوئے کچھ نام

کاغذ کے پلندوں سے خزانے نکل آئے

 

تھے گوشہ نشیں آنکھ میں آنسو مرے کب سے

عید آئی تو تہوار منانے نکل آئے

 

حیرت سے سنا کرتے تھے غیروں کے سمجھ کر

خود اپنے ہی لوگوں کے فسانے نکل آئے

 

پتھریلی زمینیں تھیں، مگر حوصلہ سچا

ہم تیشہ لئے پیاس بجھانے نکل آئے

 

اک ناوکِ بے نام تھا ہر روز عقب سے

ہم باندھ کے سینوں پہ نشانے نکل آئے

 

گھر سے نہ نکلنا بھی روایت تھی ہماری

بس اپنی روایات بچانے نکل آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات