الجھے ہوئے ہیں عمر کی شاخوں کے ساتھ ہم

الجھے ہوئے ہیں عمر کی شاخوں کے ساتھ ہم

نکلے تھے رقص کرنے بگولوں کے ساتھ ہم

 

وقتِ سحر کھلی ہے تو اوقات رہ گئی

اترے تھے ایک آنکھ میں خوابوں کے ساتھ ہم

 

دیوار و در پہ رقص کناں دیکھتے ہوئے

مانوس ہو چلے ہیں ہیولوں کے ساتھ ہم

 

بنتِ قمر کوئی تھی ، کہ خورشید زاد تھے

آخر بجھا دیے گئے پھونکوں کے ساتھ ہم

 

تو تھا کہ نقشِ لوحِ تخیل ہوا، مگر

یکسر بھلا دیے گئے وعدوں کے ساتھ ہم

 

کل تک ہمارا نام ہی تکیہ کلام تھا

اب کے بیاں ہوئے ہیں مثالوں کے ساتھ ہم

 

تا بہ سحر رفو کے بھی امکاں نہیں رہے

کٹتے رہے ہیں رات کے لمحوں کے ساتھ ہم

 

دشتِ شکستِ زعم میں اک التجا بچی

جُڑنے لگے ہیں کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ہم

 

اڑتی ہے صرف خاک سرِ راہِ آرزو

پتھرا کے رہ گئے ہیں دریچوں کے ساتھ ہم

 

دنیا کو ہم عجیب تو دنیا عجب ہمیں

ہنستے رہے ہیں دیکھنے والوں کے ساتھ ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے