اللہ رے یہ رتبۂ اعلیٰ حسین کا

اللہ رے یہ رتبۂ اعلیٰ حسین کا

ہے ساری کائنات میں چرچا حسین کا

 

جن کو زبان پاک چسائیں رسول پاک

یہ مرتبہ ہے میرے حسن کا حسین کا

 

ہے ذرہ ذرہ غیرتِ خورشید و ماہتاب

بڑھ کر ہے آسمان سے کوچہ حسین کا

 

خوشبوئیں پھوٹنے لگیں میرے خیال سے

کاغذ پہ میں نے نام جو لکھا حسین کا

 

تاریکیوں سے کہہ دو ادھر کا نہ رخ کریں

حاصل ہے میرے دل کو اجالا حسین کا

 

آساں ہے اس کے واسطے ہستی کا ہر سفر

مل جائے جس کو نقشِ کفِ پا حسین کا

 

امن و اماں کا نظم ہے قائم حسین سے

احسان کیسے بھولے گی دنیا حسین کا

 

سیلابِ رنج اس سے بہت دور دور تھا

وہ شخص دے رہا تھا حوالہ حسین کا

 

ممکن نہیں کہ خالی رہے دامنِ مراد

مانگو مرے رسول سے صدقہ حسین کا

 

کل دیکھتا رہا میں فرشتوں کے قافلے

کل میرے گھر میں ذکر چھڑا تھا حسین کا

 

دم توڑ دے گی عہد رواں کی یزیدیت

نعرہ یونہی لگاتے رہو یا حسین کا

 

اکبر کے حرب و ضرب سے کانپے نہ کیوں ستم

پوتا علی کا ، اور ہے بیٹا حسین کا

 

اصغر کو لائے جس گھڑی قربان گاہ میں

رحمت نے بڑھ کے صدقہ اتارا حسین کا

 

دین مبیں کے واسطے سب کچھ لٹا دیا

اے آسمان ! حوصلہ دیکھا حسین کا

 

حیران ہیں ملائکہ ، خوش ہے خدائے پاک

دشت بلا میں دیکھ کے سجدہ حسین کا

 

جن کو ہے ان سے عشق جو ان کے غلام ہیں

وہ چھیڑتے رہیں گے ترانہ حسین کا

 

روز جزا پکارے گی فردوس اے مجیبؔ

آ جائے جو ہے چاہنے والا حسین کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ