اردوئے معلیٰ

 

اللہ غنی رتبہ عالی شہِ دیں کا

ہے عرشِ مُعلیّ پہ قدم خاک نشیں کا

 

ہشیار کہ چھٹ جائے نہ دامانِ محمد

اس راہ میں بھٹکا تو نہ دنیا کا نہ دیں کا

 

آئینہ قرآن مبیں ہے تری سیرت

رحمت ہے ہر اک لفظ ترے ذکرِ حَسیں کا

 

ہوتے نہ اگر وہ تو کوئی چیز نہ ہوتی

کونین میں جو کچھ بھی ہے صدقہ ہے انہیں کا

 

ہوتی ہے ہمہ وقت وہاں نور کی بارش

ہر ذرہ ہے خورشید مدینے کی زمیں کا

 

مانع رہے آداب شریعت ترے در پر

کچھ اور ارادہ تھا محبت میں جبیں کا

 

رہتا ہے فدا روضئہ اقدس جو نظر میں

یہ پھل ہے حقیقت میں ترے ذوقِ یقین کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات