اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے

اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے

میں قطرہ وہ ایک سمندر ، نعت کہوں میں کیسے

 

صدیاں بیتیں آج بھی اُس کا ہے گھر گھر اُجیارا

روشن روشن نور کا پیکر ، نعت کہوں میں کیسے

 

اُس کا نام جگت کی رحمت ، وہ مصری کا میٹھا پربت

میں بہتی ندیا میں کنکر ، نعت کہوں میں کیسے

 

میں کمزور خطا کا پُتلا ، وہ ظاہر باطن کا اُجلا

وہ مُرسل ، ہادی ، پیغمبر ، نعت کہوں میں کیسے

 

مسکینوں میں مسکیں ہے ، سلطانوں میں عرش نشیں ہے

وہ طٰہ ، حٰم ٓ ، مدثر ، نعت کہوں میں کیسے

 

بات بڑی میں اِنساں خاکی ، نعت نبی کی حمد خدا کی

ہو جائیں نہ لفظ برابر ، نعت کہوں میں کیسے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات