امکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں

امکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں

شکرِ خدا کہ سارے حریمِ ثنا میں ہیں

 

خود رفتگی کی صورتِ حیرت ہے چار سُو

منظر نظر نواز ترے نقشِ پا میں ہیں

 

شاید کہ تھام لائی ہے خاکِ کرم کا لمس

احساس ہُوبہُو وہی بادِ صبا میں ہیں

 

اِک رتجگے کے روگ میں ڈھلتی رہی حیات

تسکیں کے سلسلے ترے خوابِ لقا میں ہیں

 

حرفِ نیاز و عجز پہ ُکچھ ناز ہے مجھے

اِذنِ کرم میں ہیں، ترے دستِ عطا میں ہیں

 

حسنِ کرشمہ ساز کے اظہار دم بہ دم

صحنِ بقا میں ہیں، کبھی دشتِ فنا میں ہیں

 

مقصودؔ آؤ اُس درِ رحمت پہ جا رہیں

سب چشمہ ہائے خیر ہی جس کی رضا میں ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
یرا فن روشن ہوا ان کے مقدس نام سے
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا
گھروں کو سجاؤ، دلوں کو سنوارو، نگاہیں جھکاؤ، حضور آرہے ہیں
بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں